حضرت شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر مگر اہم مکتوب گرامی
نورالحسن راشد کاندھلوی
سه ماهی احوال و آثار کاندھله – اکتوبر نومبر دسمبر 2007 | شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ ۱۴۲۸ھ
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے امت مسلمہ کے مسائل اور امراض و بگاڑ کی جس طرح نشاندہی فرمائی ہے اور اس کے لیے جو بے خطا نسخے تجویز کیے ہیں ان کی نافعیت محتاج بیاں نہیں۔ حضرت شاہ صاحب کی فکر کی خوشبو اور ہدایات کی روشنی پورے برصغیر میں بکھری ہوئی ہے۔ منجملہ ان ہدایات کے شاہ صاحب کے بہت سے ارشادات، خاص سکتے اور فرامین ایسے ہیں جن کا افادہ عام نہیں ہوا۔
ایسا ہی ایک مجموعہ جو حضرت شاہ صاحب کے مکتوبات کے معلوم سرمایہ کا سب سے بڑا حصہ اور اہم ترین ذخیرہ ہے، وہ مجموعہ مکتوبات ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ کے ماموں زاد بھائی، دوست، بچپن کے ہم سبق، سفر سلوک اور زیارت حرمین کے رفیق، خاص معتمد اور صاحب سر، حضرت شاہ محمد عاشق پھلتی کے فرزند شاہ عبدالرحمن رحمہ اللہ نے مرتب کیا تھا۔ اس مجموعہ مکتوبات میں سے ایک مختصر سا گرامی نامہ جو شاہ ولی اللہ کے ایک مرید، سید نور شاہ افغانی کے نام ہے، یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
خط کا متن (اصل فارسی و اردو ترجمہ)
مکتوب ثانی و خمسون: ”به طرف نور شاہ مرید حضرت ایشان که در ملک افغانان سکونت دارد“
برادرم، میر نور شاه بعد سلام مسنون مطالعه نمایند.
اول وصیت یاد داشتن ارکان پنجگانه اسلام است و از بدعتها و گناهان کبیره دور بودن، که هر که در ارکان اسلام سستی کرده است، یا مرتکب گناہاں شده، یا بدعتی را معتقد گشته، از جاده نجات دور افتاده است. انا لله وانا اليه راجعون
بعد احکام این اصل، سه سخن معمور داشتن اوقات است، بطاعات قلبی و زبانی و اعمال جوارح که اگر اوقات معمور نباشد نقش و نگار که عبارت از مقامات و احوال است بر کدام دیوار کنند؟
کار عالم درازی دارد.
هر چه گیری مختصر گیرید
فرض کیجئے ایک شخص کو زہر دے دیا گیا۔ اطباء متفق ہیں کہ اگر ایک گھنٹہ گزر گیا اور اس شخص نے قے نہ کی تو وہ مر جائے گا۔ ماہر طبیب نے قے لانے کا نسخہ لکھ دیا۔ اس بھولے آدمی نے نسخہ پڑھا اور ہر دوا پر غور کرنے لگا کہ یہ لفظ عربی ہے یا یونانی، اس کے زیر و زبر کیا ہیں۔ پھر دواؤں کی خاصیتوں پر غور کرنے لگا۔
طبیب حاذق نے فرمایا: ”اے بھولے آدمی! وقت آ گیا کہ تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ کون سا وقت ہے کہ تو ان اشیاء کی تحقیق کر رہا ہے؟ اگر زندگی چاہتا ہے تو یہ نسخہ خرید لے۔ خریدنا خود مؤثر نہیں، بلکہ کھانا مؤثر ہے۔ کھانا بھی مؤثر نہیں، بلکہ قے ہو جانا اور زہر کے اجزاء کا نکل آنا مؤثر ہے۔“
اسی طرح شارع علیہ السلام نے اپنی نہایت شفقت و مہربانی سے قلبی اور زبانی عبادتوں کے چند نسخے نفس و شیطان کے خطرات کا زہر کھانے والوں کے لیے تجویز فرمائے ہیں۔ سادہ لوح اشخاص ان کے اجزاء اور ان کی تحقیق میں علماء کے اختلاف اور ان اختلاف کے موقعوں کی چھان پھٹک میں اپنے اوقات گنواتے ہیں۔
کاروان بگذشت و من در فکر سامانم هنوز
ترجمہ: ”عمر سمجھ کی تلاش میں گزر گئی اور میں ابھی تک نادان ہوں۔ قافلہ گزر گیا اور میں ابھی تک سامان کی فکر میں ہوں۔“
پیام خط – آج کی ضرورت
شاہ صاحب اپنے دور کی بات کر رہے تھے، آج حالات اور زیادہ سنگین ہیں۔ برصغیر بلکہ پوری دنیا میں جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے کفر و شرک کا زہر ہر وقت پلایا جا رہا ہے۔ سب سے پہلی بنیادی ضرورت اس حملے سے بچاؤ کی ہے۔ اگر ہم نے غفلت کی اور طبیب حاذق کا نسخہ فوراً استعمال نہ کیا تو شاید:
”ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں“
نتیجہ
یہ خط ہمیں سکھاتا ہے کہ دین پر عمل کرنا ہے، اسے محض بحث و تنازع کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ وقت بہت قیمتی ہے۔ آج کے فتنوں کے اس دور میں ہمیں شاہ ولی اللہ کے اس نسخے پر عمل کرنا ہے: ارکان اسلام کی پابندی، بدعات سے بچنا، اور دل و زبان سے اللہ کی عبادت میں اوقات بسر کرنا۔
✍️ یہ مضمون ”سه ماهی احوال و آثار کاندھله“ سے لیا گیا ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔

Leave a Reply