آیت الکرسی کی تفسیر

یہاں سے اگلی جتنی بھی آیات ہیں، ان کا تعلق بین الاقوامی نظام کی تشکیل سے ہے، خلافت کبری کی تشکیل کے امور سے ہیں۔

ممالک جب اپنی جگہ پر وجود میں آ جاتے ہیں، دولت، اقتدار اور اتھارٹی جمع ہو جاتی ہے، حکمرانی قائم ہو جاتی ہے تو پھر قوموں کے درمیان بخل شروع ہوتا ہے۔ قومیں چاہتی ہیں کہ دوسرے ملک پر قبضہ کر لیں، ان کے وسائل لوٹ لیں، انہیں غلام بنا لیں۔ یہاں سے جنگیں شروع ہوتی ہیں۔

تو بین الاقوامی اصول یہ ہے کہ انسانی نقطہ نظر سے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرو، ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کرو۔ برابری کی سطح پر اقوام عالم خرید و فروخت اور لین دین کا نظام بنائیں، مال خرچ کریں انسانیت کے لیے، دولت کے احتکار و اکتِناز سے بچیں۔

یہ بنیادی حکم اور ضابطہ بیان کرنے کے بعد، اللہ کی حکمرانی کا جو مکمل نظام اور اس کا میکنزم یہاں کام کر رہا ہے، اسے ایک عظیم ترین آیت کی صورت میں بیان کیا جا رہا ہے۔ سورت کا آغاز اسی بات سے ہوا تھا:

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (البقرہ: 2)

یہ کتاب – اس میں کوئی شک نہیں – اس کا نفاذ اس أَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ کی طرف سے ہوا ہے اور یہ متقی لوگوں کے لیے ہدایت کا باعث ہے جو الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ یعنی غیب کے نظام پر پورا اور پختہ یقین رکھتے ہیں۔

یہ غیب کا نظام کیا ہے؟ اور اس کی بنیادی حقیقت کیا ہے؟ پیچھے جب ابراہیمی تعلیم و تربیت کا نظام بیان کیا جا رہا تھا تو وہاں بھی حکم دیا: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ – اللہ فرماتے ہیں ”میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا“۔ تمہاری مجلس سے زیادہ اعلیٰ مجلس میں تمہارا تذکرہ ہوگا۔

یہاں اللہ کی حکمرانی کا پورا نظام بتلایا جا رہا ہے۔ چونکہ آگے بین الاقوامی نظام دنیا میں قائم کرنے یا خلافت کبریٰ قائم کرنے کے بنیادی اصول واضح کرنے ہیں، تو اس سے پہلے خود اس پوری کائنات پر عالمگیر سطح پر اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کس طریقے سے کارفرما ہے – اس کا پورا نظام ربوبیت، نظام الوہیت، نظام مالکیت جو اللہ کی ذات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے (جس کا سورۃ فاتحہ میں تذکرہ کیا گیا تھا) – قرآن حکیم اسے بڑی جامعیت اور بہترین انداز میں بیان کرتا ہے۔

آیت الکرسی – عظمت و مقام

یہ آیت – اسے آیت الکرسی کہا جاتا ہے – دین اسلام کے مکمل فلسفے کی اساسیات میں سے ہے۔ حضرت شیخ الہند فرماتے ہیں کہ احادیث مبارکہ میں اسے اللہ کی کتاب کی عظیم ترین آیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے جو علوم خمسہ بیان کیے ہیں، ان میں سب سے پہلا علم علم التوحید والصفات ہے۔ یہ علم انبیاء پر نازل ہوا اور ان پر اس کی حقیقت واضح کی گئی۔ آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک، اللہ نے انسانی سطح کے مطابق امت کو توحید و صفات کا تعارف کرایا۔

اسی تناظر میں مَلَأْ أَعْلٰی (اعلیٰ مجلس) ہے – جو دراصل اس پوری کائنات کے نظام کے چلانے کا سیکرٹریٹ ہے۔ جہاں بڑے بڑے فرشتے اس کائنات کے نظم و نسق کو چلا رہے ہیں۔ آدم سے لے کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تک، انسانی مسائل کے حل کے لیے وہاں سے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس کی تفصیلات شاہ صاحب نے حجت اللہ میں بیان کی ہیں۔

چنانچہ جب تمام اقوام عالم کے مصلحین، حکماء، سچے اولیاء اللہ اور انبیاء کا وہاں اجتماع ہوا تو اس کی وسعت پھیلتی چلی گئی۔ قرآن حکیم کے نزول کے وقت اس مَلَأْ أَعْلٰی کی اجتماعیت میں اقوام عالم کی پوری نمائندگی موجود تھی۔ اسی تناظر میں علم التوحید والصفات کی جو نوعیت بنتی تھی، وہ اس آیت مبارکہ میں بیان کی گئی۔

یہی وجہ ہے کہ تورات، زبور، انجیل میں علم التوحید والصفات کو اتنی وسعت اور اس انداز میں بیان نہیں کیا گیا۔ اس لیے قرآن حکیم کی یہ آیت أَعْظَمُ آيَةٍ کہلاتی ہے۔

اللہ کی ذات کا تعارف: لا إله إلا هو

سب سے پہلے ذات باری تعالیٰ کا تعارف کرایا گیا۔ ذات کی حقیقت کا ادراک اس دنیا میں کوئی انسان نہیں کر سکتا۔ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ – وہ دائرۂ احاطۂ انسانیت سے ماورا ہے۔

اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ

ترجمہ: اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

لفظ ”الہ“ کے معنی ”جذب کرنے والا“ کے ہیں – جیسے لوہا مقناطیس کی طرف کھنچتا ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر مخلوق اسی ذات کی طرف کشش رکھتی ہے۔ یہ محبت اور عشق کا وہ جذبہ ہے جو ہر چیز کو اس ذات سے جوڑے ہوئے ہے۔

پھر اس اسم ذات کے بعد دو بنیادی صفات بیان کی گئیں:

الْحَيُّ الْقَيُّومُ

الحی – زندہ، زندگی دینے والا۔ القیوم – خود قائم رہنے والا اور تمام کائنات کو تھامنے والا۔

محققین (بالخصوص امام شاہ ولی اللہ) اس کائنات کے دو بنیادی دائرے بیان کرتے ہیں: روح الکل (کُل کی روح) اور طبیعت الکل (کُل کی طبیعت)۔ روح الکل کا مرکز اور منبع الحی ہے – اسی سے ہر چیز میں حیات پیدا ہوتی ہے۔ اور طبیعت الکل کا مرکز القیوم ہے – اسی سے ہر چیز کا مادی ڈھانچہ قائم رہتا ہے، اس کے اجزاء بکھرتے نہیں ہیں۔

پوری کائنات کا ہر ذرہ – روح کے ذریعے اور جسم کے ذریعے – اس ذاتِ بَحَت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

نہ اونگھ، نہ نیند – کامل کنٹرول

لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ

دنیا کے حکمرانوں کو نیند آتی ہے، اونگھ آتی ہے، کام میں وقفہ آ جاتا ہے۔ لیکن اللہ کو نہ اونگھ آتی ہے، نہ نیند۔ اس کی تجلی اعظم ہر لمحہ کارفرما ہے۔ کوئی وقفہ نہیں، کوئی سسٹم ڈسٹرب نہیں ہوتا۔

لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ

آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے۔ جو انسان اپنی محنت سے کچھ بناتا ہے اور اس کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے، وہی اس کا مالک ہوتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات کا اصل مالک وہی ہے۔

مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ

کوئی اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکتا مگر اس کی اجازت سے۔ دنیا میں سفارش دو طرح سے ہوتی ہے: یا تو سفارشی مدعی کے برابر ہو، یا اس سے زیادہ طاقتور ہو۔ لیکن اللہ کا نہ کوئی برابر ہے، نہ کوئی اوپر۔ سفارش صرف اس کے حکم اور اجازت سے ہوتی ہے۔

حضرت سندھی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: مَلَأْ أَعْلٰی اور مَلَأْ أَسْفَل میں جو فرشتے اور اولوالعزم انسان اللہ کے نظام کو چلا رہے ہیں، وہ سب اس کی اجازت سے کام کرتے ہیں۔ جو جبرائیل کا دشمن ہے، وہ اللہ کا دشمن ہے۔ کیونکہ وہ روح القدس اللہ کے حکم سے قرآن لے کر آتا ہے۔

وسعتِ علم اور کرسی کا تصور

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ

وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔

وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ

اس کی کرسی (علم و اقتدار کا تخت) آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ اور ان دونوں کی حفاظت اس پر بوجھ نہیں ڈالتی۔

وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

اور وہی بہت بلند اور بہت عظیم ہے۔

تدبیر میں توحید – گھڑی کی مثال غلط ہے

کچھ فلاسفہ کہتے ہیں کہ اللہ نے کائنات بنا دی، پھر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا – جیسے گھڑی ساز گھڑی بنا کر چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن یہ مثال غلط ہے۔

سورج، چاند، ستارے محض میکانیکل نظام سے نہیں چل رہے۔ ان میں روح ہے، اور وہ اپنے رب کی اجازت سے حرکت کرتے ہیں۔ حضرت ابوذر غفاری سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج غروب ہو کر عرش کے نیچے جاتا ہے، سجدہ کرتا ہے اور اجازت مانگتا ہے کہ کیا وہ پھر طلوع ہو؟ اگر اجازت ملتی ہے تو طلوع ہوتا ہے، ورنہ قیامت آ جاتی ہے۔

یہی تدبیر میں توحید ہے – کہ ہر ذرے کا کنٹرول، ہر حرکت، ہر تبدیلی اللہ کی اجازت اور حکم سے ہوتی ہے۔ مشرکین تو تخلیق میں توحید مانتے تھے، لیکن تدبیر میں شرک کرتے تھے۔ قرآن نے آیت الکرسی کے ذریعے اس غلط فہمی کو ختم کر دیا۔

نظامِ کائنات ایک طے شدہ بیوروکریسی کے تحت چل رہا ہے – فرشتے، اولوالعزم انبیاء، اولیاء اللہ سب اللہ کی اجازت سے کام کرتے ہیں۔ کوئی بھی اس نظام میں خودسری سے مداخلت نہیں کر سکتا۔ یہ کامل اور مکمل نظام صرف اللہ کا ہے۔

خلاصہ و نتیجہ

آیت الکرسی محض ایک پڑھنے کی آیت نہیں – یہ اللہ کی حکمرانی کا مکمل چارٹر ہے۔ اس میں توحید کے تینوں درجے (خالقیت، ربوبیت، الوہیت) کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ:

یہ وہ توحید ہے جسے سمجھ کر انسان اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے، اور بین الاقوامی نظام میں بھی وہی اصول لاگو ہوتے ہیں: عدل، امانت، اور کسی کی غلامی نہیں، صرف اللہ کی حاکمیت۔

وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *