امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کا خط – شادی کے فلسفہ پر ایک مدبرانہ نصیحت
یہ خط انہوں نے ایک عزیز کو شادی کے موقع پر لکھا، جس میں اسلامی نقطہ نظر سے ازدواجی زندگی کی حقیقت کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
“عزیزی! تمھارا خط پڑھ کر مجھے خوشی ہوئی، تعلیم کی تکمیل کے بعد اب تمہیں زندگی کی وہ منزل پیش آ گئی ہے جہاں سے انسان کی شخصی ذمہ داریوں کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے یعنی تمھاری شادی ہو رہی ہے۔”
مولانا ابوالکلام آزاد نے اس خط میں شادی کو محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی معاہدہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے قرآن کی آیت سورہ روم (21) کی روشنی میں ازدواجی زندگی کے تین بنیادی ستون بیان کیے ہیں: سکون، مودت اور رحمت۔ آئیے اس خط کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
(الروم: 21)
ازدواجی زندگی کے تین ستون (قرآن کی نظر میں)
پہلا ستون: سکون (اطمینان قلب)
مولانا فرماتے ہیں کہ ”سکون“ عربی میں ٹھراؤ اور جماؤ کو کہتے ہیں۔ اللہ نے شادی کا رشتہ اس لیے بنایا کہ تمھاری زندگی میں ایسا ٹھراؤ پیدا ہو جائے کہ زندگی کی پریشانیاں اور بے چینیاں اسے ہلا نہ سکیں۔ یعنی میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ بنیں، نہ کہ پریشانی کا باعث۔
دوسرا ستون: مودت (محبت)
”مودت“ سے مقصود محبت ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ازدواجی زندگی کی تمام تر بنیاد محبت پر ہے۔ شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے رشتہ جوڑتی ہے تاکہ ان کی ملی جلی زندگی کی ساری تاریکیاں محبت کی روشنی سے منور ہو جائیں۔ یہ محبت صرف جسمانی کشش نہیں بلکہ روحانی و جذباتی ہم آہنگی ہے۔
تیسرا ستون: رحمت (درگزر و نرمی)
مولانا فرماتے ہیں: ”محبت کا رشتہ پائیدار نہیں ہو سکتا اگر رحمت کا سورج ہمارے دلوں پر نہ چمکے۔“ رحمت سے مراد یہ ہے کہ شوہر اور بیوی نہ صرف ایک دوسرے سے محبت کریں بلکہ ہمیشہ ایک دوسرے کی غلطیاں اور خطائیں بخش دیں اور ایک دوسرے کی کمزوریاں نظر انداز کرنے کے لیے اپنے دلوں کو تیار رکھیں۔
”رحمت کا جذبہ خود غرضانہ محبت کو فیاضانہ محبت کی شکل دیتا ہے۔ ایک خود غرضانہ محبت کرنے والا صرف اپنی ہی ہستی کو سامنے رکھتا ہے لیکن رحیمانہ محبت کرنے والا اپنی ہستی کو بھول جاتا ہے اور دوسرے کی ہستی کو مقدم رکھتا ہے۔“
مولانا کی دعا اور نصیحت
خط کے آخر میں مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں:
”میری دلی آرزو ہے کہ خدا تعالی تم دونوں کو توفیق دے کہ اپنی ازدواجی زندگی کو اول دن سے اسی رنگ میں شروع کرو جس رنگ میں قرآن کی مقدس تعلیم نے اس معاملہ کو دیکھا ہے اور نوع انسان کے آگے رکھا ہے۔“
یہ خط محض ایک مبارکبادی نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہر اس جوڑے کے لیے جو اپنی شادی کو کامیاب اور بابرکت بنانا چاہتا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی ازدواجی زندگی میں سکون، مودت اور رحمت لانا چاہتے ہیں تو مولانا آزاد کے ان الفاظ کو اپنے دل میں اتار لیں۔
ابوالکلام آزاد
✍️ یہ خط امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے مکتوبات سے لیا گیا ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک شیئر کریں تاکہ شادی کے اسلامی تصور کو سمجھا جائے۔

Leave a Reply