جہادی مدیریت اور ’’ہم کر سکتے ہیں‘‘ کے اصول پر ایمان؛ ہر میدان میں ایران کے وقار و ترقّی کا عامل
اُن تمام طاقت فرسا مشکلات کے برعکس، اسلامی جمہوریہ نے روز بروز مسلسل آگے کی طرف بڑا اور مضبوط قدم بڑھایا ہے۔ یہ چالیس سال، اسلامی ایران میں عظیم جہاد، درخشاں اعزازات اور حیران کُن ترقّی کے گواہ ہیں۔ ملّتِ ایران کی چالیس سالہ ترقّی کی عظمت کا صحیح اندازہ اُس وقت لگایا جا سکتا ہے جب اُس دورانیے کا موازنہ انقلابِ فرانس، سوویت یونین کے انقلابِ اکتوبر اور انقلابِ ہند جیسے دوسرے عظیم انقلابات کے دورانیے سے کیا جائے۔ اسلامی ایمان سے پھوٹنے والی جہادی مدیریت، اور ہمارے عظیم امامؒ کی جانب سے سکھائے گئے’’ہم کر سکتے ہیں‘‘ کے اصول پر ایمان نے ایران کو تمام میدانوں میں عزّت و ترقّی کی منازل تک پہنچایا ہے۔
اسلامی انقلاب کی عظیم برکات
انقلاب نے ایک طویل تاریخی انحطاط کا خاتمہ کیا۔ وہ ملک کہ پَہلَوی اور قاجار دورِ حکومت میں جس کی شدّت سے تحقیرہوتی رہی اور پسماندہ رہ گیا تھا، تیزی سے ترقّی کی منزلیں طے کرنے لگا۔ پہلے قدم پر شرمناک آمرانہ سلطنت کو عوامی حکومت اور عوامی حاکمیت میں تبدیل کیا اور عوامی ارادہ، جو کہ ہمہ جہت اور حقیقی ترقّی کا اصل سرمایہ ہے، کو ملکی نظم و نسق میں شامل کیا۔ اُس وقت اُس نے جوانوں کے ہاتھ تمام حالات کی باگ دوڑ تھمائی اور اُنہیں انتظامی امور میں شریک کیا۔ ’’ہم کر سکتے ہیں‘‘ کی روح سب میں پھونک دی۔ دشمنوں کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کی برکت سے سب کو ملکی توانائی پر انحصار کرنا سکھایا اور یہ سب کچھ درج ذیل عظیم برکات کا باعث بنا:
1. ایک: سرزمینِ ایران کی مکمّل حفاظت اور امن و امان
انقلاب نے ملک کی مکمّل حفاظت، امن و امان، وحدت و ہم آہنگی اور دشمن کی طرف سے خطرے کی آماجگاہ بنی رہنے والی سرحدوں کی حفاظت کی ضمانت دی اور آٹھ سالہ جنگ میں اپنی فتح اور (عراق کی) بعثی حکومت اور اُس کے امریکی، یورپی اور مشرقی آقاؤں کی شکستِ فاش کا معجزہ رونما کر دیا۔
2. دو: معاشرتی، معاشی اور حیاتیاتی بنیادوں پر سائنس اور ٹیکنالوجی میں مملکت کو آگے لے جانے والی مشینری
انقلاب نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں پیشرفت، اور اِسی طرح حیاتیاتی، معاشی اور عمرانیاتی بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں مملکت کو آگے لے جانے والے محرِّک کا کردار ادا کیا کہ جس کے قابل فخر ثمرات روز بہ روز بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ علمی بنیادوں پر قائم ہزاروں تجارتی مراکز، ذرائع آمدورفت ، صنعت، توانائی، معدنیات، صحّت، زراعت اور پانی جیسے میدانوں میں ہزاروں ضروری اور بنیادی منصوبے، لاکھوں کی تعداد میں یونیورسٹیوں میں مشغول یا فارغ التحصیل افراد، ملک بھر میں پھیلی ہوئیں ہزاروں یونیورسٹیاں؛ اور ایٹمی ایندھن سائیکل، اسٹیم سیل، نینو ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی وغیرہ کے دنیا بھر میں پہلے نمبر کے دسیوں بڑے منصوبہ جات، تیل کے علاوہ دیگر مصنوعات کی برآمدات کا ساٹھ گُنا تک بڑھ جانا، صنعتی یونٹس میں دس گُنا اضافہ، مصنوعات کے معیار میں دس گُنا اضافہ، اسمبلنگ انڈسٹری کا مقامی انڈسٹری میں تبدیل ہوجانا؛ انجینئرنگ کے مختلف شعبوں میں، جیسے کہ دفاعی صنعت میں قابلِ دید ترقّی، میڈیکل کے حسّاس اور اہم شعبوں میں چکاچوند ترقّی اور اُن میں مرکزی اور مستند مقام تک آ پہنچنا اور اِن کے علاوہ ترقّی کی دوسری دسیوں مثالیں۔
یہ سب اُس اجتماعی احسّاس، ہر میدان میں اپنی شرکت اور اُس جذبے کا نتیجہ ہے جو انقلاب نے مُلک کو عطا کیا۔ انقلاب سے پہلے کا ایران، سائنس اور ٹیکنالوجی میں صِفر تھا۔ جو انڈسٹری میں سوائے اسمبلنگ کے اور سائنس میں سوائے ترجمے کے اور کوئی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔
3. تین: عوامی شرکت، اور (شہری) خدمات کی فراہمی کی دوڑ کو عروج تک پہنچانا
انقلاب نے سیاسی مسائل، جیسے کہ انتخابات، داخلی فتنوں سے مقابلے اور داخلی میدانوں سمیت استکبار سے مقابلے کے میدانوں میں عوام کی شرکت کو عروج پر پہنچا دیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے اور لوگوں کی بھَلائی کے لیے کام کرنے جیسے سماجی امور جو کہ انقلاب سے پہلے ہی شروع ہو چکے تھے، اُن کو حیران کُن حد تک وسعت بخشی۔ انقلاب کے بعد سے لوگ قدرتی آفات اور معاشرتی ضروریات میں خدمت کی دوڑ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
4. چار:عوام کے سیاسی شعور میں حیرت انگیز ترقّی
انقلاب نے عوام کے سیاسی شعور اور بین الاقوامی معاملات پر اُن کی نگاہ کو حیرت انگیز حد تک ترقّی دی ہے۔ اُس نے مغرب خصوصاً امریکہ کے جرائم، فلسطین اور فلسطینیوں پر تاریخی ظلم و ستم کے مسئلے، مختلف ظالم و جابر حکومتوں کی دوسری اقوام کے امور میں مداخلت اور جنگ افروزیاں اور شرارت کرنے جیسے بین الاقوامی امور کے ادراک اور اُن کے سیاسی تجزیے کو روشن خیال نام کے ایک محدود اور (معاشرے سے) کنارہ کش طبقے سے نکال کر باہر رکھ دیا ہے۔ اور یوں روشن خیالی پورے ملک کے عوام میں اور زندگی کے تمام میدانوں میں پہنچ گئی اور اِس قسم کے مسائل، نوجوانوں، یہاں تک کہ بچوں کے لیے بھی قابلِ فہم ہو گئے۔
5. پانچ:ملک کے عوامی وسائل کی تقسیم میں انصاف کے پَلّے کو بھاری کرنا
انقلاب نے ملک کے عوامی وسائل کی تقسیم میں عدالت و انصاف کا نظام سخت کر دیا۔ مجھ حقیر کا ملک میں انصاف کی کارکردگی پر جو عدم اطمینان ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ اِس قیمتی اور بے مثال قدر کو اسلامی جمہوریہ کے نظام کے ماتھے کے تاج کا بے مثال گوہر ہونا چاہئے تھا جو کہ ابھی تک نہیں ہے، لیکن میری اِس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ملک میں انصاف کے قیام کے لیے ابھی تک سِرے سے کوئی اقدام ہوا ہی نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ناانصافی اور بے عدالتی سے مقابلے کے جو ثمرات اِن چار دہائیوں میں ملے ہیں اُن کا دوسرے کسی بھی دورانیے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ طاغوتی دور میں ملک کی زیادہ تر آمدن اور وسائل، دارالحکومت میں رہنے والوں یا ملک کے دوسرے حصوں میں بسنے والے اُنہی جیسے افراد پر مشتمل ایک مختصر سے گروہ کے اختیار میں تھے۔ اکثر شہروں خصوصاً دورافتادہ علاقوں اور دیہاتوں کے لوگ تو فہرست کے آخر میں شمار کیئے جاتے تھے اور اکثر تو زندگی کی انتہائی بنیادی ضروریات اور سہولیات سے بھی محروم تھے۔ اسلامی جمہوریہ کا شمار اُن کامیاب ترین حکومتوں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے دولت اور عوامی خدمت کو مرکز سے نکال کر سارے ملک میں پھیلایا اور اشرافیہ نشین علاقوں سے نکال کر پسماندہ علاقوں تک پہنچایا۔ ملک کے دوردراز علاقوں تک سڑکوں اور گھروں کی تعمیر، صنعتی مراکز کا قیام، زرعی امور میں اصلاحات، پانی اور بجلی کی ترسیل، مراکزِ صحت کا قیام، یونیورسٹیاں، آبی بند اور توانائی کے مراکز ،کے بڑے اعداد و شمار حقیقت میں ہمارے لیے قابلِ فخر ہیں۔ یقیناً یہ ساری کی ساری کارکردگیاں نہ تو حکومتی عہدیداروں کی ناقص تشہیر سے عیاں ہوئی ہیں اور نا ہی داخلی اور خارجی بدخواہوں نے کبھی اِن کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن یہ سب موجود ہیں اور عوام اور خدا کے نزدیک، مجاہد اورمخلص انداز میں ملکی انتظامات چلانے والوں کے لیے حسنات ہیں۔ البتہ وہ عدل و انصاف جس کی اسلامی جمہوریہ کو توقع ہے کہ جس سے وہ مولا علیؑ کی حکومت کی پیروکار کے طور پر جانی جائے، وہ اِس سے کئی بہتر ہے اور اِس کے قیام کی امید آپ جوانوں سے ہے کہ جس کی میں آگے چل کر وضاحت کروں گا۔

Leave a Reply