اکمل سومرو کا تجزیہ: علامہ اقبال اور سر علامہ محمد اقبال – دو متضاد شخصیات

تعارف: اقبال کی دھندلی تصویر

شکوہ و جواب شکوہ وہ نظم ہے جو کالج و یونیورسٹی کے نوجوان کے لیے اقبال کی عظمت کا اعتراف ہے۔ لیکن علامہ محمد اقبال اور سر علامہ محمد اقبال دو متضاد شخصیات ہیں۔ علامہ محمد اقبال سے متعلق تصور ریاست پاکستان کا تشکیل کردہ ہے جس نے حقیقی اقبال کی شخصیت کو چھپا دیا ہے – جو سر اقبال کے گرد گھومتی ہے۔

اقبال نے ہندوستان میں برطانوی راج کے حق میں جو شاعری کی وہ سر علامہ محمد اقبال کی شاعری ہے۔ تصور خودی، شاہین، اسلامی فلسفہ پر مبنی شاعری کو کُل شاعری کا درجہ دینا اقبال کے فکر سے ناانصافی ہے۔ ہمیں اقبال کی دھندلی تصویر کو سمجھنا چاہیے۔

جاگیرداروں کے وظیفہ خوار اور انگریزوں کے وفادار

1920ء تا 1930ء کی دہائی میں خلافت کے فوراً بعد سر علامہ محمد اقبال کو مسلمان جاگیرداروں اور والیان ریاست کے ہاں خصوصی پذیرائی اور اثر و رسوخ حاصل رہا۔ اقبال اردو اور فارسی زبان کے ممتاز شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک وکیل، سیاست دان، انگریزوں کے وفادار اور ہندوستان کے کم از کم دو والیان ریاست (بھوپال اور حیدرآباد دکن) کے وظیفہ خوار بھی تھے۔

شکوہ: خدا سے سوال – دولت کیوں نایاب ہے؟

1911ء میں اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں اپنی طویل نظم ”شکوہ“ سنائی۔ انجمن حمایت اسلام پنجاب میں جاگیرداروں کا قائم کردہ خیراتی ادارہ تھا۔ اس نظم میں اقبال نے خدا سے مخاطب ہو کر پوچھا:

کیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایاب

تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد نہ حساب

تو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حباب

زہرہ دشت ہو سیلاب زدہ موج سراب

طعن اغیار ہے، رسوائی ہے، ناداری ہے

کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟

اقبال نے اس نظم میں مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ تجارت و صنعت کی طرف آئیں، بینک کھولیں، صنعتیں لگائیں اور تجارت کریں۔ لیکن خود انہوں نے اس کا حل کیا تجویز کیا؟

جوابِ شکوہ: مسجدیں آباد کرو، معاشی سوالات کو نظر انداز کرو

تین سال بعد اقبال نے ”جواب شکوہ“ لکھی (1914ء)۔ اب اس میں مسلمانوں کی غربت اور پسماندگی کا کوئی ذکر نہ تھا۔ اللہ کی طرف سے جواب یہ دیا گیا کہ مسلمانوں نے نمازیں چھوڑ دی ہیں، مسجدیں آباد کرو۔

کس قدر تم پر گراں صبح بیداری ہے

ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے

طبع آزاد پہ قید رمضان بھاری ہے

جائو پکے نمازی بن جاؤ، مسجدیں آباد کرو

اقبال نے کہیں بھی مسلمانوں کی پسماندگی کا ذمہ دار انگریز سرکار کو نہیں ٹھہرایا، نہ کوئی معاشی شعور پیدا کیا۔ اپنے اٹھائے ہوئے سوال کا جواب نہیں دیا۔

سر کا خطاب: جلیانوالہ باغ کے سانحہ کے بعد بھی انگریز کے وفادار

جب انگریز سرکار نے اقبال کو ”سر“ کا خطاب پیش کیا (جس کے ساتھ زرعی زمین کی ملکیت بھی وابستہ تھی)، تو اقبال نے بصد خوشی قبول کر لیا۔ یکم جنوری 1923ء سے وہ ”سر علامہ محمد اقبال“ کہلائے جانے لگے۔

اس کے برعکس، جلیانوالہ باغ کے سانحہ کے بعد رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنا سر کا خطاب واپس کر دیا تھا۔ محمد علی جوہر کو یہ خبر سن کر شدید صدمہ پہنچا، اور عبدالمجید سالک نے روزنامہ انقلاب میں اقبال کے خلاف نظم لکھ ڈالی۔

نظریہ پاکستان: جاگیرداروں اور انگریز کا لائحہ عمل

صرف سولہ سال بعد اقبال نے ”مسجدیں آباد کرنے“ کا نظریہ ترک کر دیا۔ 1930ء میں خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کی جداگانہ ریاست کا مطالبہ کیا۔ اس وقت سرمایہ داری نظام میں داخل ہونے کے خواہش مند مسلمان جاگیردار طبقات نے انگریز سامراج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے یہ لائحہ عمل اختیار کیا: پہلے مسلمانوں کو ایک الگ قوم بناوٴ، پھر ایک الگ وطن کا مطالبہ کرو۔

اقبال کی الہ آباد تقریر کے بعد وہ 1931ء اور 1933ء کی گول میز کانفرنسوں میں مدعو ہوئے۔ اسی دوران چوہدری رحمت علی نے اپنا کتابچہ ”ابھی نہیں کبھی نہیں“ تقسیم کیا – جس میں پہلی بار لفظ ”پاکستان“ استعمال ہوا۔ گمان ہے کہ یہ کتابچہ انڈیا آفس کے ایماء پر لکھا گیا تھا۔

اقبال کے آخری خطوط: مذہب اور زبان کی بنیاد پر تقسیم

1936-37ء میں اقبال نے محمد علی جناح کو تیرہ خطوط لکھے۔ اب وہ ساٹھ سال کے ہو چکے تھے۔ 28 مئی 1937ء کو لکھے گئے خط میں کہا:

”ان حالات میں ہندوستان کے اندر امن قائم رکھنے کی واحد صورت یہ رہ گئی ہے کہ ہندوستان کو مذہب، نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کر دیا جائے۔“

یہ اقبال ہی تھے جنہوں نے 37 سال کی عمر میں مسلمانوں کو مسجدیں آباد کرنے کا کہا، اور اب 60 سال کی عمر میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کا نظریہ پیش کیا۔

نتیجہ: سر علامہ اقبال کی شاعری سے استعمار کا تجزیہ غائب ہے

انگریز نے ہندوستان میں جاگیردار طبقہ پیدا کیا، معاشی لوٹ مار کی، فرقہ وارانہ ماحول بنایا، اور نوآبادیاتی پالیسیوں سے خطے کو غلام بنائے رکھا – لیکن سر علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فلسفے سے یہ سب کچھ خارج ہے۔

اکمل سومرو کا یہ تجزیہ ہمیں اقبال کی قبول شدہ روایت سے ہٹ کر سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ تنقید ضروری ہے تاکہ ہم کسی بھی شخصیت کو بغیر تحقیق کے بت نہ بنا لیں۔

وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *