دیارِ غیر کی ہجرت – ایک دلخراش گوشوارہ
شیخ علی طنطاوی کی پوتی کی تحریر
آج بڑی تیزی سے اہل اسلام یورپ اور مسیحی ممالک کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ پہلے بھی کرتے رہے ہیں؛ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بنیاد مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نسلیں ان کے ہاتھوں سے نکل رہی ہیں اور کنبے کا کنبہ مرتد ہوتا چلا جا رہا ہے۔ معروف مصری عالم شیخ علی الطنطاوی کی پوتی مومنہ العظام کی اس سلسلے میں ایک چشم کشا، فکر انگیز اور دل و دماغ جھنجھوڑ دینے والی رپورٹ پڑھیے۔
میرے دادا شیخ طنطاوی نامور عالم و فاضل ہونے کے ساتھ بڑے روشن دماغ اور مستقبل شناس تھے۔ دادا کی عالمی شہرت کی وجہ سے ہمارے پاس یورپ جانے کے بہت سے مواقع تھے، آسانی سے ویزے مل سکتے تھے؛ لیکن وہ ہمیں ہمیشہ دیارِ غیر میں جانے سے روکتے تھے۔
دادا کی دور اندیشی پر سلام
مومنہ العظام کہتی ہیں: “مجھے بڑا غصہ آتا تھا کہ یہ کیا دقیانوسیت ہے۔ لیکن جب میں بڑی ہوئی، یورپ کے دورے کیے اور بہت سارے مہاجر خاندانوں سے ملاقات ہوئی تو دادا جان کے لیے دل سے دعائیں نکلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”کفر کی زمینوں پر رہنا پیش آمدہ نسلوں کے ایمان و عقیدہ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔“
تحقیق کے چونکا دینے والے اعداد و شمار
مومنہ العظام نے مہاجر خاندانوں خصوصاً مشہور بیروتی مذہبی ’’رمضان خاندان‘‘ پر تحقیق کی۔ جب انہوں نے شجرات کھنگالے تو قریبا پانچ ہزار لوگوں کا سراغ ملا۔ ان کی نسلوں کی مذہبی تباہی کی داستان بڑی دلخراش تھی۔
📊 100 سال قبل ہجرت کرنے والوں کی پشتوں میں ≈ 96% غیر مسلم ہو چکے ہیں۔
📊 80 سال قبل ہجرت کرنے والوں کی پشتوں میں ≈ 75% مرتد ہو چکے ہیں۔
📊 60 سال قبل ہجرت کرنے والوں کی پشتوں میں ≈ 40% عیسائی بن چکے ہیں۔
📊 40 سال قبل ہجرت کرنے والوں کی پشتوں میں ≈ 25% اسلام چھوڑ چکے ہیں۔
ایکویڈر میں رمضان خاندان کا المیہ
تقریباً اسی سال قبل ایک مشہور شیخ نے جنوبی امریکہ کے شہر ’ایکویڈر‘ کی طرف ہجرت کی اور وہاں پہلی مسجد بنائی۔ آج بدقسمتی سے ان کے پوتوں میں کوئی بھی مسلم نہیں۔ رمضان خاندان کے 98 افراد 1923 میں ہجرت کر کے یہاں پہنچے، اب سب عیسائی بن چکے ہیں۔
”دور کہاں جانا، ہم لوگ قریباً چالیس سال سے امریکہ میں مقیم ہیں، اور خود میرے دادا شیخ علی الطنطاوی کے پوتے پوتیوں میں سولہ غیر مسلم ہو چکے ہیں۔“
حیدرآباد کے معروف عالم کے بچوں کا واقعہ
حال ہی میں قنوج میں احیائے تصوف کانفرنس میں ایک شیخ نے بتایا کہ حیدرآباد کے ایک بڑے عالم کے دو بچے امریکہ جا کر شہری بن گئے۔ ان کی اولادیں وہیں ہوئیں۔ مدتوں بعد جب ان میں سے ایک ہندوستان آیا تو اس نے بتایا کہ اس کے دو بیٹے دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں: ایک عیسائی اور دوسرا ملحد (ایتھیسٹ)۔
نتیجہ – سنت انبیاء پر عمل کی ضرورت
اولاد کی تربیت اور ان کے قدموں کو دین پر جمائے رکھنا سب سے مشکل اور اہم کام ہے۔ اپنی اولاد کے ایمان و عقیدہ کے بارے میں فکرمند ہونا اور بہترین دینی ماحول فراہم کرنا انبیاے کرام کی سنت ہے۔
اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ایمان و عقیدہ صحیحہ کی روشنی ہماری نسلوں میں باقی رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
”کچھ رہے یانہ رہے بس یہ دعا ہے کہ امیر
نزع کے وقت سلامت میرا ایمان رہے.“

Leave a Reply