مولانا مودودی سے ان کے صحابہ (رض) کے خلاف کتاب ”خلافت و ملوکیت“ پر بحث

محمداسلم علی پوری – ڈنمارک

مولانا مودودی کا بڑا نام تھا۔ وہ جماعتِ اسلامی کے بانی اور امیر تھے۔ انہوں نے ”خلافت و ملوکیت“ نامی کتاب لکھی جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شدید تنقید تھی۔ میرے شہر کے شیعہ اس کتاب سے بہت خوش تھے اور باربار ہمیں صحابہ رضوان کے بارے میں مولانا مودودی کی کتاب کے حوالے دیتے تھے اور کہتے تھے کہ (معاذاللہ) ہم بھی تو یہی کہتے تھے کہ صحابہ ایسے تھے – جس سے ہمارے دلوں پر چھریاں چلتی تھیں۔

میرے جماعتِ اسلامی اور اسلامی جمیعتِ طلبہ کے دوستوں کے اصرار پر مَیں مولانا مودودی سے ملنے گیا۔ بطورِ طالب علم میرا مقصد یہ تھا کہ مولانا مودودی شاید میرے علم میں کچھ اضافہ کر سکیں۔ مَیں اپنے ساتھ ہی محمود عباسی کی دو کتابیں اور ”خلافت و ملوکیت“ پر سید نورالحسن بخاری صاحب کی کتاب ”عادلانہ دفاع“ بھی لے گیا۔

مولانا مودودی صاحب سے صحابہ رضوان پر تنقید کے بارے میں عرض کیا کہ آپ نے سنی ہو کر یہ کون سا کمال کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید تو شیعہ کرتے ہی رہتے ہیں۔ جبکہ قرآن میں تو اللہ نے ”رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ“ کہہ کر صحابہ پر اپنے راضی ہو جانے کی مہر لگا دی ہے اور اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اللہ اللہ فی اصحابي لا تتخذوھم من بعدي غرضا“ فرما کر صحابہ کرام کو تنقید کا نشانہ بنانے سے سختی سے منع کر دیا ہے۔

آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر بھی تنقید کی۔ ترمذی شریف میں مناقب عثمان بن عفان میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک شخص کی نمازِ جنازہ محض اس وجہ سے پڑھنے سے انکار کر دیا تھا کہ ”إِنَّهُ كَانَ يُبْغِضُ عُثْمَانَ“ – وہ حضرت عثمان سے بغض رکھتا تھا۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کا جنازہ بھی پڑھنے کو تیار ہو گئے تھے۔

آپ اپنی کتاب ”خلافت و ملوکیت“ کے صفحہ 116 پر لکھ رہے ہیں کہ ”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسی کا یہ پہلو بلاشبہ غلط تھا“۔ صفحہ 124 پر لکھ رہے ہیں کہ ”حضرات عائشہ صدیقہ، طلحہ، زبیر (رض) نے ٹھیٹھ قدیمی جاہلیت کے طرز پر (معاذاللہ) خون عثمان کا مطالبہ اٹھایا“۔ حالانکہ شہادتِ عثمان (رض) کی صرف افواہ پر تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے تمام صحابہ رضوان سے بیعت رضوان لی تھی۔

آپ نے صفحہ 144 پر حضرات عمر بن العاص (رض) اور ابوموسیٰ اشعری (رض) کو بھی غلط قرار دیا۔ صفحہ 153 پر لکھا کہ حضرات امام حسین، ابنِ بیر، ابنِ عمر اور عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) نے تلوار کے ڈر سے حضرت امیر معاویہ کے اس اعلان کی تردید نہ کی کہ ہم نے یزید کی بیعت نہیں کی۔ صفحہ 146 پر حضرت علی (رض) کو بھی غلط کہا اور کہا ”ان کا یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں“۔ پھر صفحہ 136 پر لکھا کہ ”امیر معاویہ (رض) بھی باطل پر تھے“۔ صفحہ 149 پر لکھا کہ مغیرہ بن شعبہ (رض) نے کوفہ میں دس آدمیوں کو تیس ہزار درہم دے کر ان کا ایمان خریدا۔ صفحہ 142 پر لکھا کہ ”حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) شرم کے مارے حضرت علی (رض) کو منہ نہ دکھا سکتے“۔

آپ نے یہ جھوٹا اور ایمان شکن واقعہ اپنی کتاب خلافت و ملوکیت کے صفحہ 175 پر لکھا ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے زیاد بن سُمیّہ کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے (معاذاللہ) اپنے والد ماجد (حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ) کی زناکاری پر شہادتیں لیں۔ مَیں نے کہا کہ مولانا! امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور رشتہ میں برادرِ نسبتی تھے، کاتبِ وحی تھے۔ باپ کے زنا پر تو دنیا کا بے غیرت ترین انسان بھی شہادتیں نہیں لیتا! آپ دنیا کے سامنے صحابہ کرام (رض) کی کیا تصویر پیش کر رہے ہیں؟

میری بات سن کر مولانا مودودی لاجواب ہو گئے اور کہنے لگے کہ ”مَیں نے جو کچھ لکھا وہ تاریخ سے لکھا ہے“۔ مَیں نے عرض کیا کہ اس کتاب ”عادلانہ دفاع“ میں سید نورالحسن بخاری صاحب نے آپ کے بہت سے حوالوں کی نشاندہی کی ہے جو تاریخوں میں نہیں ہیں۔ لیکن اگر تاریخ کو ہی معیار بنانا ہے تو یہ میرے پاس محمود عباسی کی دو کتابیں ”خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ و یزید رحمۃ اللہ“ اور ”تحقیق مزید فی خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ و یزید رحمۃ اللہ علیہ“ ہیں۔ محمود عباسی نے اپنی ان کتابوں میں تاریخوں سے ثابت کیا ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ (معاذاللہ) باغی تھے اور یزید حق پر تھا۔ مودودی صاحب بولے کہ ”آپ میری بات مان لیں یا محمود عباسی کی!“ مَیں نے کہا کہ ”مَیں آپ دونوں کی بات نہیں مانتا، مَیں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانتا ہوں۔“

مولانا! آپ بار بار تاریخ سے لکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ کم از کم تاریخی روایت لینے سے پہلے ”اسماء الرجال“ سے مؤرخ کی تو چھان بین کر لیتے؟ آپ واقدی، ہشام ابن الکلبی، ابومخنف، شعیب بن ابراہیم کوفی، کلبی جیسے جھوٹے، واقعات گھڑنے والے صحابہ کے دشمن، کھوٹے سکوں سے روایات لکھ رہے ہیں، جن کا مسلم مشاہیر نام لینا تک پسند نہیں کرتے۔

مولانا مودودی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اپنی تنقید کا دفاع نہ کر سکے اور بس اپنی ضد پر آڑے رہے کہ کیا صحابہ (رض) نے (معاذاللہ) غلطیاں نہیں کیں؟ مَیں نے عرض کیا کہ جب اللہ نے انہیں اپنی رضا سے نواز دیا اور دنیا بھر کے انسانوں کے سامنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معیارِ حق قرار دے کر یہ حکم دیا ”آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ“ (البقرہ: 13) یعنی ”اس طرح ایمان لاؤ جس طرح یہ (صحابہ) لوگ ایمان لائے“ اور پھر اسی آیت میں آگے چل کر صحابہ کرام کی مخالفت کرنے والوں کو اللہ خود جواب دے رہا ہے ”أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ“ یعنی ”سن رکھو! وہ خود ہی بے وقوف ہیں لیکن نہیں جانتے“ – یعنی قرآن کے مطابق صحابہ کرام کے دشمن بیوقوف ہیں۔

مولانا مودودی کہنے لگے کہ ”مَیں صحابہ کو معیارِ حق نہیں مانتا“۔ مَیں نے عرض کیا کہ یہ تو اللہ قرآن میں فرما رہا ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو اسی ضمن میں فرما گئے ہیں کہ ”أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ، فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ“۔ لیکن مولانا مودودی اسی بات پر آڑے رہے کہ ”مَیں نے یہ سب تاریخ سے لکھا ہے“۔ مَیں نے عرض کیا کہ کسی کی تاریخی روایت لینے سے پہلے ”اسماء الرجال“ سے تحقیق کر لینی ضروری ہے، ورنہ پھر آپ محمود عباسی کی تاریخی روایات کو کیوں تسلیم نہیں کرتے؟ مولانا مودودی کے ارد گرد جماعتِ اسلامی کے لوگ مجھے کھا جانے والی نگاہوں سے گھور رہے تھے۔

بہرحال مولانا مودودی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اپنی تحریروں کا دفاع کر کے مجھے مطمئن نہ کر سکے، نہ ہی میرے علم میں کوئی اضافہ کر سکے – بس ضد ہی کرتے رہے۔ علم میں ضد نہیں چلتی، تحقیق ضروری ہے۔ مَیں بوجھل دل سے وہاں سے آیا۔ میرے ساتھ جانے والے جماعتِ اسلامی کے دوست بھی شرمندہ سے تھے۔ مَیں نے انہیں چھیڑتے ہوئے کہا:

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرہ تو اِک قطرہءِ خون نکلا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کا وہ گروہ جنت میں جائے گا جو میرے اور میرے صحابہ (رض) کے طریقے پر چلے گا۔ اللہ ہم سب کو اسی راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مولانا مودودی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی تھی – قدرت نے اس کا انتقام یوں لیا کہ آج ان کا اپنا بیٹا مولانا مودودی پر تنقید کر رہا ہے اور ان کا یہ بیٹا فاروق حیدر مودودی یہ بھی کہتا ہے کہ ”میرے والد نے صحابہ رضی اللہ عنہم پر غلط تنقید کی تھی“۔ حیدر فاروق نے مودودی صاحب کے ساتھیوں پر بھی بدکرداری کے الزامات لگائے ہیں، ان کی ویڈیوز موجود ہیں۔

صحابہ کرام کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ“ کہہ کر انہیں ہدایت کے ستارے کہا ہے۔ انسان اگر ستاروں پر تھوکے گا تو وہ اس کے اپنے ہی منہ پر آ گرے گا:

حذر اَے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعذیریں

✍️ یہ تحریر محمداسلم علی پوری (ڈنمارک) کی اصل مباحثہ رپورٹ پر مبنی ہے۔ اسے بدقسمتی سے مولانا مودودی کے موقف کے تناظر میں پڑھا جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *